بدھ 29 جولائی 2026 - 19:04
کربلا میں حضرت زینبؑ کا کردار رہبرِ معظم کی نظر میں ایک فکری اور تاریخی تجزیہ

حوزہ/اسلام کی تاریخ میں جب بھی دینِ اسلام کی بقا، حق کی سربلندی اور باطل کے خلاف قیام کے لیے قربانیوں کی ضرورت پیش آئی، مردوں کے ساتھ ساتھ عظیم خواتین نے بھی صبر، استقامت، ایثار اور شجاعت کی لازوال مثالیں قائم کیں۔

تحریر: ناصرہ بتول

حوزہ نیوز ایجنسی|

اسلام کی تاریخ میں جب بھی دینِ اسلام کی بقا، حق کی سربلندی اور باطل کے خلاف قیام کے لیے قربانیوں کی ضرورت پیش آئی، مردوں کے ساتھ ساتھ عظیم خواتین نے بھی صبر، استقامت، ایثار اور شجاعت کی لازوال مثالیں قائم کیں۔

انہی عظیم المرتبت شخصیات میں رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی، حضرت علی المرتضیٰ علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی بڑی صاحبزادی حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا کا نام سرِفہرست ہے۔ آپؑ کی ولادتِ باسعادت ۵ جمادی الاوّل کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپؑ کا نام "زینب" رکھا، جس کے معنی "والد کی زینت" ہیں، اور آپؑ کی عزت و حرمت کی تلقین فرمائی۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے نبوت، امامت اور عصمت کے پاکیزہ ماحول میں پرورش پائی۔ آپؑ کو نانا رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روحانی تربیت، والدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی اعلیٰ تعلیمات، والد حضرت علی علیہ السلام کی محبت و شفقت، اور امام حسن علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام کی رفاقت نصیب ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ علم، حکمت، عبادت، تقویٰ، اخلاق اور بصیرت میں اپنے زمانے کی ممتاز شخصیت بن گئیں۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے آپؑ کے علمی مقام کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپؑ "عالمۃٌ غیرُ معلَّمۃٍ" اور "فہمۃٌ غیرُ مفہَّمۃٍ" ہیں، یعنی ایسی صاحبِ علم و حکمت ہستی جنہوں نے کسی ظاہری استاد سے تعلیم حاصل نہیں کی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ علمِ لدنی سے بہرہ مند تھیں۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نہ صرف علم و معرفت کا سرچشمہ تھیں بلکہ سخاوت، ایثار، عبادت اور خدمتِ خلق میں بھی اپنی مثال آپ تھیں۔ آپؑ نے مدینہ منورہ اور بعد ازاں کوفہ میں خواتین کے لیے تفسیرِ قرآن، حدیث اور اسلامی تعلیمات کے حلقے قائم کیے اور بے شمار خواتین کی علمی و فکری تربیت فرمائی۔ بچپن ہی سے آپؑ دوسروں کی ضروریات کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھتی تھیں۔ آپؑ کی سیرت اس حقیقت کی بہترین مثال ہے کہ حقیقی عظمت مال و دولت میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، خدمتِ انسانیت، ایثار اور قربانی میں پوشیدہ ہے۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت کا سب سے روشن اور عظیم باب واقعۂ کربلا ہے، جہاں آپؑ نے صبر، استقامت، شجاعت اور قیادت کی ایسی مثال قائم کی جو تاریخِ انسانیت میں بے نظیر ہے۔ عاشورا کے دن اپنے بھائی حضرت امام حسین علیہ السلام، دیگر اہلِ بیت علیہم السلام اور اپنے دو فرزندوں کی شہادت جیسے عظیم سانحات کے باوجود آپؑ کے عزم و حوصلے میں کوئی کمزوری نہ آئی۔ جب حضرت امام حسین علیہ السلام میدانِ کربلا میں شہید ہوئے اور دشمن نے خیموں کو آگ لگا دی تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے تمام خواتین اور بچوں کی حفاظت کی، انہیں تسلی دی اور ہر مشکل گھڑی میں ان کی رہنمائی فرمائی۔ اسی دوران آپؑ نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر امامِ وقت حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی حفاظت کی اور شمر جیسے ظالم کے سامنے ڈٹ کر امامت کے سلسلے کو محفوظ بنایا۔

کربلا کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی جدوجہد ایک عظیم انقلابی تحریک کی صورت اختیار کر گئی۔ ۱۱ محرم الحرام کے بعد جب اہلِ بیت علیہم السلام کے اسیروں کا قافلہ کوفہ اور پھر شام لے جایا گیا تو آپؑ نے انتہائی صبر و استقامت کے ساتھ تمام مصائب برداشت کیے۔ قید و بند کی سختیوں، بازاروں میں اسیری اور اونٹوں کی ننگی پیٹھوں پر سفر کے باوجود آپؑ نے نہ صرف خواتین اور بچوں کے حوصلے بلند رکھے بلکہ شہدائے کربلا کے پیغام کی حفاظت بھی فرمائی۔ کوفہ اور دربارِ یزید میں آپؑ نے ایسے فصیح، بلیغ اور جرأت مندانہ خطبات ارشاد فرمائے جنہوں نے بنو امیہ کے برسوں پر مشتمل جھوٹے پروپیگنڈے کو خاک میں ملا دیا۔ آپؑ نے یزید کے غرور، ظلم اور باطل کو للکار کر ثابت کر دیا کہ حق کی آواز کو نہ تلوار خاموش کر سکتی ہے اور نہ ہی ظلم و جبر کا اقتدار ہمیشہ قائم رہ سکتا ہے۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبات، سیاسی بصیرت، حق گوئی اور بے مثال قیادت کے ذریعے واقعۂ کربلا کے حقیقی مقصد کو رہتی دنیا تک زندہ کر دیا۔ اگر آپؑ کی استقامت، تبلیغی جدوجہد اور انقلابی کردار نہ ہوتا تو شاید کربلا کا پیغام اسی سرزمین تک محدود رہ جاتا۔ آپؑ نے یہ ثابت کیا کہ اسلام کی حفاظت، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور حق کا علم بلند رکھنا صرف مردوں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ باایمان خواتین بھی اپنے علم، کردار، بصیرت اور عزم کے ذریعے تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہیں۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی پوری زندگی ایمان، صبر، استقامت، علم، ایثار، شجاعت، قیادت اور حق پسندی کا حسین امتزاج ہے۔ آپؑ نے نہ صرف اہلِ بیت علیہم السلام کے مشن کی حفاظت کی بلکہ اسلام کو نئی زندگی عطا کی اور ظلم و جبر کے مقابلے میں ہمیشہ حق کی آواز بلند کرنے کا عملی درس دیا۔ بلاشبہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ، خواتین کے لیے بہترین نمونۂ عمل اور دینِ اسلام کی سربلندی کا روشن مینار رہے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha